چین میں سونے کی درآمدات دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
جون میں چین کی سونے کی درآمدات دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور 173 ٹن ریکارڈ کی گئیں۔ بلوم بعگ کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے دنیا کی سب سے بڑی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں غیر معمولی خریداری کو جنم دیا ہے۔ بیرونِ ملک سے خریداری مسلسل تیسرے مہینے بھی بڑھی اور مارچ 2024 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
خریداری میں اس تیزی کی بنیادی وجوہات سونے کی کم قیمتیں اور چینی یوآن کی مضبوطی ہیں۔ تجارتی بینک اپنی درآمدی کوٹہ کا بھرپور استعمال کرنے اور ریٹیل صارفین کو فزیکل سونا فراہم کرنے کے لیے تیزی سے اپنے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ Jinrui Futures Co. کے تجزیہ کار Zijie Wu کے مطابق، "Buy the Dip" کی حکمتِ عملی اس وقت مارکیٹ کی سب سے بڑی محرک بن چکی ہے۔ بینکوں کو سونا جمع کرنے کے پروگراموں کے لیے حقیقی ذخائر برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جن کے ذریعے عام شہری چھوٹی مقدار میں سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ متبادل سرمایہ کاری کے ذرائع بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ رہے ہیں۔ Shanghai Gold Exchange کے مطابق، سال کے آغاز سے اب تک سونے سے منسلک ای ٹی ایف فنڈز میں خالص سرمایہ کاری تقریباً 28 ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
درآمدات میں اضافے کا ایک اور اہم سبب People's Bank of China کی جانب سے یکم جون کو متعارف کرایا گیا نیا لائسنسنگ نظام ہے۔ ریگولیٹر کی سخت نگرانی نے مالیاتی اداروں کو مؤثر طور پر اپنی دستیاب درآمدی حدیں تیزی سے استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمد کیے گئے سونے کا کچھ حصہ ممکنہ طور پر جون سے پہلے خریدا گیا تھا، تاہم لاجسٹکس، فنانسنگ اور کسٹمز میں تاخیر کے باعث وہ بعد میں سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر ہوا۔ اس کے علاوہ، چینی بینکوں کے لیے اس وقت سونے کی درآمد زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ سال کی پہلی ششماہی کے بیشتر حصے میں مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت عالمی منڈی کے مقابلے میں پریمیم پر برقرار رہی۔